Sale with condition of regulating price, 3rd party insurance
Category:
According to Madhhab:
Reference:
Question:
goods supply me goods at a certain price and tells me to sell it at his
predetermined price, am I obligated to sell it at that price.
customer at our businesses got injured on our premises. He is now claiming 110
thousand rands from us. Is it permissible for a business to take out 3rd party
insurance.
vehicle.
1.
The transaction
wherein your supplier sells you goods on condition that you sell them at the
specific price is not in order due to it being a conditional sale which is not
permissible in Shar’iah. The correct method would be that he sells the
goods without any condition and thereafter, you sell them with the profit
margin you wish. Another alternative is that he tells you to sell the goods for
him in return of a fixed percentage of the selling price or a fixed amount as
your salary.
[i]
2.
All voluntary conventional insurance policies and
schemes, including Third Party Insurance for a business, are not permissible as
they contain elements of interest and gambling that are forbidden in Shari’ah.
3.
Voluntary
Third-Party Insurance on a motor vehicle is not permissible as it contains
elements of interest and gambling that are forbidden in Shar’iah.
[ii]
And Allah Ta'aala alone in His infinite knowledge knows best!
ANSWERED BY: Abdullah Badat
AND APPROVED BY: Mufti Muhammed Saeed Motara Saheb D.B.
Islamic Date:12 جمادى الأولى 1440 - English Date: 19 January 2019
[i]
وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في
صورته وهو ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه
منفعة والمعقود عليه من أهل أن يستحق حقا على الغير فالعقد فاسد كذا في الذخيرة.
«اللفتاوى الهندية» 3/134 مكتبة ماجدية
وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في صورة وهو
ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه منفعة والمعقود
عليه من لأهل أن يستحقّ حقّا على الغير فالعقد فاسد «الفتاوى التاتارخانية» 8/410
مكتبة زكريا بديوبند
[باب
السمسار]
(قال
- رحمه الله - ذكر حديث قيس بن أبي غرزة الكناني قال: «كنا نبتاع الأوساق بالمدينة
ونسمي أنفسنا السماسرة فخرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فسمانا باسم
هو أحسن من اسمنا قال: - صلى الله عليه وسلم - يا معشر التجار إن البيع يحضره
اللغو والحلف فشوبوه بالصدقة» والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالأجر بيعا وشراء
ومقصوده من إيراد الحديث بيان جواز ذلك؛ ولهذا بين في الباب طريق الجواز،(المبسوط للسرخسى 15/114-115 دار المعرفة)
وَلَو اسْتَأْجر السمسار شهرا ليبيع لَهُ أَو ليَشْتَرِي
بِكَذَا من الاجر جَازَ ذَلِك(النتف فى الفتاوى ص349 سعيد)
سمسرۃ
کی ايک معروف صورت
ليکن سمسرۃ کی جو صورت معروف ہے وہ يہ ہے کہ آپ ميرے لئے
مشتری تلاش کريں،اگر مشتری تلاش کرکے لائيں گے تو
ميں آپ کو پانچ ہزار روپےدوں گا، اس ميں عام طور پر مدت مقرر نہيں ہوتی بلکہ عمل کی تکميل پر اجارہ ہو تا ہے کہ اگر تم
مشتری تلاش کر کے لاؤگے تو تمہيں پانچ ہزار روپے مليں گے، اب اگر بالفرض وہ دوسرے
دن تلاش کرکے لے آياتو اسکو پانچ ہزار روپے مل گئےاور اگر دوسرے دن تلاش کر کے نہ
لايا، دوسرے دن کيا پورا مہينہ گزر جائے، دو مہينہ گزر جائے، وہ کو شش کرتا رہا
ليکن کوئی مشتری نہيں ملا تو ايک پيسہ بھی اجرت نہيں ملے گی،اس کو عام طور سے
سمسرۃ کہتے ہے،اسکے جواز ميں فقہاء کرام کا کلام ہوا ہے۔
امام
شافعی،مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا قول
امام شافعی ،امام مالک اور امام احمد اس کو مطلقا جائز کہتے
ہيں شرط صرف يہ ہے کہ اجرت معلوم ہو۔
امام ابو حنيفہ کا مسلک
...اس واسطے متاخرين حنفيہ سمسرۃ کی اجرت
کوجائز قرار ديا ہے اگر چہ علامہ عينی يہ لکھتے ہيں کہ حنفيہ کے نزديک سمسرۃ جائز
نہيں ليکن متاخرين حنفيہ علامہ شامی وغيرہ نے تصريح کی ہے کہ سمسرۃ بھی جائز ہے...تو صحيح بات يہ ہے کہ حنفيہ کے نزديک
بھی سمسرۃ جائز ہے۔
دلالی
(کميشن ايجنت) ميں فيصد کے حساب سے اجرت طے کرنا
...ليکن عام طور سے سمسرۃ ميں جوصورت ہوتی
ہے وہ اس طرح اجرت معين نہيں ہوتی بلکہ فيصد کے حساب سے مقرر کی جاتی ہے کہ جتنے
تم بيچوگے اسکا دو فيصد تمہيں ملےگا۔
آج کل کی اصطلاح ميں اسکو کميشن ايجنت کہتے ہیں۔یعنی اس کی
قیمت کا دو فیصد تمہيں ملے گا،ايک فيصد ملے گا، تو اجرت فيصد کے حساب سے مقرر کی
جاتی ہے۔
مفتی
بہ قول
ليکن اس ميں بھی مفتی
بہ قول يہ ہے کہ ايسا کرنا جائز ہے۔اور علامہ شامی نے بعض متاخرين سے نقل کيا ہے
کہ اس کی وجہ يہ ہے کے ہميشہ اجرت کا عمل کی مقدار کے مطابق ہونا ضروری نہيں ہے
بلکہ عمل کی قدر و قيمت اور عمل کی حيثيت
کے لحاظ سے بھی اجرت ميں فرق ہو جاتا ہے...تو مفتی بہ قول يہ ہے کہ فيصد کے لحاظ
سے بھی سمسرۃ لينا جائز ہے۔
»اسلام اور
جديد معاشی مسائل « 4/119-125 ادارہ اسلاميات
[ii]
قَالَ عز وَجل {وَأحل الله البيع
وَحرم الرِّبَا}«البقرة 275» وَقَالَ عز وَجل {يَا أَيهَا الَّذين آمنُوا لَا
تَأْكُلُوا الربوا اضعافا مضعفة}«آل عمران 130»
باب في آكلِ الربا وموكلِه: حدَّثنا أحمدُ بن
يونَس، حدَّثنا زهيرٌ، حدَّثنا سماكٌ، حدَّثني عبدُ الرحمن بن عبد الله بن مَسعودِ
عن أبيه، قال: لعنَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- آكِلَ الربا وموكلَه
وشاهدَه وكاتبَه{ابو داود: 3333 دار السلام}
(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي
القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن
يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،(رد المحتار 6/403
سعيد)
انشورنس ميں چونکہ دو قسم کی خرابياں پائی جاتی ہيں (1) ربا (2)قمار اور دونوں حرام ہيں،اس ليے
انشورنس بھی نا جائز ہے (فتاوی دار العلوم زکريا 5/482 زمزم
پبلشرز)
بيمہ کی اصل حقيقت قمار اور ربوا پر مشتمل ہے جو ناجا ئز اور حرام
ہے(محمود الفتاوی 2/474 3
/63
مکتبہ انور)
انشورنس کی جتنی صورتيں فی زماننا رائج ہيں سب ناجائز ہيں
کيونکہ وہ سب سود اور قمار پر مشتمل ہيں(فتاوی عثمانی 3/328 مکتبہ معارف القرآن کراچی)
ان اشتہاری و تجارتی بيموں ميں کمپنياں جو مالک کو خاص صورتوں
ميں معاوضہ ديتی ہيں تو وہ عوض ہے اس مال تلف شدہ کا،مگر واقع ميں عوض ہے اس رقم
کا جوماہانہ يا سالانہ داخل کی جاتی ہے، کيونکہ انکو مقصود وہی ہے ورنہ مال ضائع سے انکو کيا نفع ہو سکتا
ہے، پس اعتبار صورت کے تو يہ قمار ہے لأنه تعليق الملك على
الخطر و المال في الجانبين اور باعتبار حقيقت يہ سود ہے لعدم إشتراط
المساواة فى الجانبين فيما يجب فيه المساواة اور قمار اور سود دونوں حرام ہيں پس يہ معاملہ يقينا حرام
ہے،(امداد الفتاوی 3/161 مکتبہ دار العلوم کراچی)
بيمہ ميں جوا بھی ہے اور سود بھی يہ دونوں چيزيں ممنوع ہيں، بيمہ بھی ممنوع
ہيں(فتاوی محموديہ 16/387 فاروقيہ)
